صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
بدھ 15 اگست 2018 
  • آئی ایس آئی فنڈ کا غلط استعمال ، اسلم بیگ کے خلاف کارروائی شروع
  • پنجاب کے علاوہ ملک بھر میں حکومت سازی کا پہلا مرحلہ مکمل
  • حکومت ہی دہشتگردوں کی ہے میاں افتخار حسین
  • یوم آزادی آج جوش وخروش سے منایا جائیگا
  • عمران خان پہلی مرتبہ سرکاری پروٹوکول میں قومی اسمبلی آئے
  • پرویز خٹک کو مجلس عمل سے رابطوں کا ٹاسک حوالے

مبینہ دھاندلی ' صوبائی الیکشن آفس کے باہر اپوزیشن کا شدید احتجاج

آن لائن/نیوز رپورٹر | جمعہ 10 اگست 2018 

پشاور(آن لائن/نیوز رپورٹر) متحدہ اپوزیشن الائنس پشاور کے زیر اہتمام مبینہ دھاندلی کے خلاف صوبائی الیکشن آفس پشاور کے سامنے بھرپور احتجاج کیا گیا اور مرکزی وصوبائی الیکشن کمشنرز سے فوری مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اس موقع پر پشاور ھر کے تمام حلقوں سے متحدہ مجلس عمل ، جے یوآئی ، جماعت اسلامی ، پی پی پی ، اے این پی ، قومی وطن پارٹی ، مسلم لیگ ن اور دیگر سیاسی ومذہبی جماعتوں کے قائدین کی قیادت میں کارکنان نے الیکشن کمیشن آفس کی طرف مارچ کیا اور ہزاروں کارکنان کو الیکشن کمیشن آفس کی طرف آنے والے راستوں کو بلاک کرکے روک دیا گیا کارکنان نے سوری پُل میں احتجاجاً دھرنا دیا اور انتظامیہ سے مذاکرات کے بعد جن قائدین کو الیکشن کمیشن آفس ورسک روڈ چوک کی اجازت دی گئی اُن میں جمعیت علماء اسلا م ف اور متحدہ مجلس عمل کے صوبائی صدر مولانا گل نصیب خان ،مرکزی جنرل سیکرٹری عوامی نیشنل پارٹی میاں افتخار حسین شاہ ،صوبائی چیئرمین قومی وطن پارٹی سکندر خان شیرپائو، صدر متحدہ مجلس عمل ضلع پشاور وامیر جماعت اسلامی صابرحسین اعوان ، جے یوآئی ضلع پشاور کے امیر مولانا خیرالبشر ، سابق سنیٹیر حاجی غلام علی ، سیکرٹری اطلاعات مولانا حسین احمد مدنی ایڈووکیٹ ، سابق صوبائی وزرا آصف اقبال دائودزئی ، حافظ حشمت خان، خالدوقار چمکنی ، عوامی نیشنل پارٹی کے سٹی صدر ملک مصطفی ، جنرل سیکرٹری سرتاج خان ، مسلم لیگ ن ضلع پشاور کے صدر حاجی صفت خان ، سابق ایم پی اے صوبیہ خان شامل تھے۔ مذکورہ رہنمائوں نے الیکشن کمیشن آفس کے سامنے اپنے احتجاجی خطا ب میں پشاور بھر کی شاہراہوں کو بلاک کرنے اور کارکنان کو روکنے کی بھرپور مذمت کی اور کہاکہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے ہمارا راستہ نہیں روکا جاسکتا ایک پارٹی تحریک انصاف کو ریلیف دیکر تمام جماعتوں کے حقوق غضب کرنے کی پالیسی ملک میں خانہ جنگی کی صورت حال پیدا کرنے کی سازش ہے ۔ مولانا گل نصیب خان ، میاں افتخار حسین شاہ ، صابرحسین اعوان ، مولانا خیرالبشر ، حاجی صفت خان ، سکندرشیرپائو اور دیگر قائدین نے کہاکہ ملک میں الیکشن کے نام پر ہونے والی سلیکشن اور منظم دھاندلی کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ مرکزی وصوبائی الیکشن کمشنرز فوری طورپر مستعفی ہوجائیں ۔ انہوں نے کہاکہ الیکشن میں ملکی ادارے استعمال ہوئے ہیں اور آج سپریم کورٹ کی طرف سے دوبارہ گنتی کو روکنے کا فیصلہ آزاد عدلیہ پر سوالیہ نشان ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف چیف جسٹس آف پاکستان کو سوموٹو ایکشن لینا چاہیے ۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں ازسر نو صاف وشفاف انتخابات کے انعقاد تک متحدہ الائنس کا احتجاج جاری رہے گا ۔ انہوں نے کاکہاکہ الیکشن کے نام پر جعلی مینڈیٹ کی پشت پناہی کرنے والے اپنے گھنائونے کردار پر نظرثانی کریں کیونکہ عوام کی رائے پر ڈاکہ مارا گیا ہے اور جعلی حکومت عوامی مسائل حل نہیں کرسکتی ۔ انہوں نے کہاکہ نہ جعلی الیکشن مانتے ہیں نہ جعلی حکومتیں اور جعلی وزیر اعظم مانتے ہیں ۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔