صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
جمعرات 18 اکتوبر 2018 
  • کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد ہو گا ، محمود خان
  • اللّٰلہ سے وعدہ ہے کہ کڑا حساب کرونگا ، وزیر اعظم
  • عمران خان شہباز شریف کو شکست دیکر وزیر اعظم بن گئے
  • سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا گیا
  • منی لانڈرنگ کیس، عدالت سے آصف زرداری کی گرفتاری کا حکم
  • رائو انوار کی ضمانت منسوخ کروانے کیلئے درخواست دائر

عمران خان شہباز شریف کو شکست دیکر وزیر اعظم بن گئے

مانیٹرنگ رپورٹ | ہفتہ 18 اگست 2018 

اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان ملک کے 22ویں وزیراعظم منتخب ہوگئے ہیں۔وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے 172 ووٹ درکار تھے جن میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان نے 176 ووٹ حاصل کیے جبکہ مخالف امیدوار مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے 96 ووٹ حاصل کئے۔ پارلیمانی اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی نگرانی میں ہوا جبکہ ووٹنگ ڈویژن کی بنیاد پر کی گئی تھی۔اس سے قبل وزیر اعظم کے انتخاب کے لیے قومی اسمبلی میں رائے شماری کا عمل شروع مکمل ہوا جس کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی تھی۔قومی اسمبلی میں تحریک انصاف اور اتحادیوں کی تعداد 175 ہے جبکہ مسلم لیگ ن کے اراکین کی تعداد 97 ہے۔ پیپلز پارٹی کے بھی قومی اسمبلی میں 54 اراکین ہیں تاہم انہوں نے ن لیگ کے امیدوار کو ووٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ 4 آزاد اراکین بھی قومی اسمبلی کا انتخاب جیتے ہیں۔اس سے قبل پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی آمد پر اپنی نشست سے اٹھ گئے اور شہباز شریف کے قریب آنے پر ان سے مصافحہ کیا۔ اس دوران دونوں رہنماوں کے درمیان مختصر سی بات چیت بھی ہوئی جس کے بعد عمران خان اور شہباز شریف اپنی نشستوں پر براجمان ہو گئے۔اجلاس کے موقع پر اسمبلی میں موجود مہمان گیلری میں گنجائش سے زیادہ افراد موجود تھے جس کے سبب بدنظمی دیکھنے کو ملی۔گیلری میں سابق کرکٹر جاوید میاندار بھی موجود تھے۔اجلاس میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے شرکت نہیں کی جبکہ چیئرمین بلاول بھٹو نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انتخابی عمل میں حصہ نہ لینا ہمارا جمہوری حق ہے۔ اجلاس کے آغاز میں اسپیکر نے اراکین کو قائد ایوان کے انتخاب کے طریقہ کار سے متعلق آگاہ کیاجس کے بعد گھنٹیاں بجانے کا حکم دیا۔چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے قومی اسمبلی پہنچنے پر مہمان گیلری میں موجود افراد نے کھڑے ہوکر تالیاں بجائیں جبکہ اس موقع پر پی ٹی آئی ارکان نے نعرے بازی کی۔وزیراعظم کے انتخاب کی کارروائی دیکھنے کے لیے مہمانوں کی بڑی تعداد گیلری میں آگئی تھی جس میں پی ٹی آئی کے کارکنان کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مہمانوں کی گیلری رش کے باعث بند کردی گئی تھی۔شہبازشریف کی آمد کے موقع پر صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کیا آپ سنچری مکمل کر لیں گے؟ اس پر (ن) لیگ کے صدر نے کہا کہ جب میچ فکس ہو پھر سنچری کیسے بنائی جا سکتی ہے؟خورشید شاہ اور ایاز صادق ایک ہی گاڑی میں پارلیمنٹ ہاوس پہنچے جس پر صحافی نے سوال کیا کہ آج (ن) لیگ اور پیپلزپارٹی ایک ہی گاڑی میں ہیں، اس پر ایاز صادق نے کہا کہ شاہ صاحب سے 2002 سے نا چھٹنے والا رشتہ ہے، سیاست اپنی جگہ اور یہ رشتے اپنی جگہ ہیں۔عمران خان کی پارلیمنٹ ہاوس آمد کے موقع پر صحافیوں نے ان سے سوالات کیے اور ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میچ ابھی ختم نہیں ہوا، میچ جاری ہے، خواب ابھی پورا نہیں ہوا، ایک مرحلہ پورا ہوا۔عمران خان کیلئے لابی اے اور شہبازشریف کیلئے لابی بی بنائی گئی تھی۔ ایک لابی سے عمران خان کو ووٹ دینے اور دوسری لابی سے شہباز شریف کو ووٹ دینے والوں کو گزرنا تھا۔ دونوں لابیز اسپیکر کے دائیں اور بائیں جانب واقع ہیں۔پیپلزپارٹی کے اراکین نے انتخابی عمل میں حصہ نہیں لیا اور وہ اپنی نشستوں پر ہی بیٹھے رہے جبکہ جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی بھی اپنی نشست سے نہیں اٹھے۔اجلاس کے آغاز پرمسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی مرتضی جاوید عباسی اپنی نشست پر کھڑے ہوئے اور نکتہ اعتراض پر کہا کہ آج پہلے ہی دن ایوان کا تقدس پامال ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تو وزیراعظم نے حلف اٹھایا بھی نہیں، لوگ گیلریوں میں کھڑے ہیں انہیں پہلے باہر نکالیں۔بعد ازاں خورشید شاہ نے بھی نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایسی صورتحال گیلریوں میں کبھی نہیں دیکھی۔ سابق اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی نے کہا کہ اہم شخصیات یہاں موجود ہیں، خدانخواستہ کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے، یہاں پہلے بھی حادثہ رونما ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ گیلریوں میں کھڑے افراد کو نکالا جائے۔اجلاس کے دوران نون لیگ کی جانب سے پیپلزپارٹی کو منانے کی ایک اور کوشش کی گئی۔شہبازشریف خود چیئرمین پی پی بلاول بھٹو کی نشست پر گئے اور ان سے ملاقات کی۔اس موقع پر جاوید مرتضی عباسی سمیت دیگر رہنما بھی ان کے ہمراہ تھے تاہم شہبازشریف کی کوشش ناکام ہوئی۔شہبازشریف نے بلاول بھٹو زرداری سے اپنے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کی جس پر بلاول بھٹو زرداری نے معذرت کرلی۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔