صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
پیر 23 جولائی 2018 

عوام جسے منتخب کریںگے وہی ہمارا وزیر اعظم ہوگا 'پاک فوج

سی پی پی | بدھ 11 جولائی 2018 

راولپنڈی(سی پی پی)ترجمان پاک فوج میجرجنرل آصف غفور نے واضح کیا ہے کہ فوج کی کوئی سیاسی جماعت ہے نہ کسی کیساتھ سیاسی وابستگی ،انتخابات میں عوام جسے منتخب کرینگے وہی ہمارے وزیر اعظم ہوں گے،پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں اس لئے انتخابات کا التواء چاہتے ہیں،25 جولائی کو عوام اپنا حق ادا کر کے ملک کو جمہوریت کی طرف لے کر جائے گی،کوئی ایسے انتخابات نہیں آئے جن میں سیاسی رہنمائوں نے دوسری جماعتوں میں شمولیت اختیار نہ کی ہو،وفاداریاں تبدیل کرانے بارے فوج پر الزامات بے بنیاد ہیں،کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے،جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، چوہدری نثار والیجیپ ہماری نہیں، انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے،کیپٹن (ر)صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت انکے خلاف کارروائی کی جائے گی،سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کراسکتے،ملکی مفاد کیخلاف کوئی بھی چیزسامنے آئی تو وہ نظرانداز نہیں کرسکتے، سیاسی شخصیات کو سکیورٹی کا خطرہ ہے ،ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں،خلائی نہیں ہم رب کی مخلوق ہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ 25 جولائی کو عوام اپنا حق ادا کرے گی اور ملک کو جمہوریت کی طرف لے کر جائے گی۔اسلام آباد میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان کا کام صرف معاونت فراہم کرنا ہے انتخابات کرانے کا کام الیکشن کمیشن کا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ افواج پاکستان الیکشن کمیشن کے حکم پر پہلے بھی انتخابات میں فرائض انجام دیتی رہی ہے، 1997 کے انتخابات میں 35 ہزار پولنگ اسٹیشن پر ایک لاکھ 92 ہزار فوجی اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ صاف اور شفاف انتخابات کا مطلب ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو ضابطہ اخلاق دیا ہے اس پر مکمل طور پر عمل کرنا اور 2018 کے انتخابات کے تناظر میں الیکشن کمشین نے فوج سے صاف اور شفاف الیکشن کے انعقاد میں مدد مانگی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ہمیں 6 کام دیے ہیں، اس میں سب سے پہلے امن و امان کو بہتر کیا جائے، دوسرا بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے دوران سیکیورٹی کے فرائض انجام دینا، اس کے علاوہ انتخابی سامان کی ترسیل کرنا ہے، پولنگ اسٹاف اور ریٹرننگ افسران کی سیکیورٹی ہے.انہوں نے کہا کہ پولنگ والے دن پولنگ اسٹیشنز پر سیکیورٹی فراہم کرنا افواج پاکستان کی ذمہ داری ہے۔بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق پر عمل کرنے کے پابند ہیں اور پہلی مرتبہ افواج کے لیے بھی ایک ضابطہ اخلاق تیار کیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں 85 ہزار پولنگ اسٹیشنز بنائے گئے ہیں جو 48 ہزار 500 عمارتوں میں بنائے گئے ہیں اور ان کی سیکیورٹی کے لیے افواج پاکستان کو 3 لاکھ سے 71 ہزار سے زائد اہلکار درکار ہیں۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سرحدی صورتحال کے باعث اتنی نفری الیکشن کے لیے تعینات کرنا ممکن نہیں تھا، جس کی وجہ سے 5 سال قبل ریٹائرڈ ہونے والے فوجی اہلکاروں، پاکستان نیوی اور ایئرفورس کے اہلکاروں کو بھی سیکیورٹی کے لیے تعینات کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ فوج کے لیے جو حکم جاری ہوتا ہے وہ سب کے لیے ہوتا ہے اور جو حکم جاری ہوا ہے اس کا مطلب یہی ہے کہ ہم نے الیکشن کمیشن کی مدد کرنی ہے غیر جانبدار اور غیر سیاسی ہو کر کرنی ہے۔پریس بریفنگ کے دوران ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل جاری ہے اور 21 جولائی تک اس کا عمل مکمل ہوجائے گا اور فوج اس عمل میں صرف سیکیورٹی کے لیے موجود ہے اور اس کی ترسیل کے دوران الیکشن کمیشن کا افسر کی موجودگی ضروری ہے۔انہوں نے کہا کہ انتخابات میں پولنگ سے 3 دن پہلے سیکیورٹی کے تمام امور مکمل ہو جائیں گے اور ہر پولنگ اسٹیشن پر فوج، رینجرز اور پولیس کے جوان موجود ہوں گے۔میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ حساس پولنگ اسٹیشن میں 2 فوجی اندر اور 2 باہر ہوں گے جبکہ غیر حساس پولنگ اسٹیشن میں فوجی کے ساتھ ساتھ پولیس بھی موجود ہو گی۔ان کا کہنا تھا کہ انتخابات کی شفافیت یہ ہے کہ اگر بیلٹ باکس میں 100 ووٹ ڈالے گئے ہیں تو گنتی کے وقت ان کی تعداد یہی ہو اور ہر شخص ایک ہی ووٹ ڈال سکے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کی ذمہ داری پولنگ اسٹیشن کے باہر نظم و ضبط قائم کرنا ہوگا، کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ وہ ووٹرز سے زبردستی کرے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ میڈیا سے درخواست ہے کہ جو جوان ڈیوٹی پر ہو اس سے سوالات کرنے سے گریز کیا جائے اور انہیں میڈیا کے ساتھ رابطے میں نہیں لیا جائے۔انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان اپنے جوانوں کا خیال کرتی ہے اور ان سے محبت کا اظہار یہی ہے کہ ان کی ڈیوٹی کی راہ میں خلل نہ ڈالا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری کوئی سیاسی جماعت یا سیاسی وابستگی نہیں ہے، میں عوام سے کہنا چاہوں گا کہ جتنی تعداد میں آپ ووٹ ڈالنے آئیں گے اتنے ہی صاف اور شفاف انتخابات ہوں گے۔اس موقع پر مختلف سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کونسا ایسے انتخابات تھے، جس سے پہلے یہ نہ کہا گیا ہو کہ انتخابات دھاندلی زدہ ہیں، کوئی ایسے انتخابات بتائے جس سے پہلے کسی سیاسی جماعت کے رہنمائوں نے دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ جب دل اور دماغ کی سرجری کر رہے ہوں تو چھوٹے مسائل پر توجہ نہیں دیتے، افواج پاکستان نے 15 سال سے قومی فریضہ انجام دیا اور پاکستان کی بقا کی جنگ لڑی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وہ سب کچھ برداشت کیا جو عام حالات میں برداشت نہیں کرسکتے، کچھ لوگوں کا مقصد ہے کہ افواج پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دور کرکے عام نوعیت کے مسائل میں گھسیٹا جائے لیکن یہ وقت ایسا ہے کہ پاکستان افواج کی ساری توجہ اہم ملکی معاملات پر مرکوز کی جائے۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اگر کوئی شخص سیاسی جماعت تبدیل کرتا ہے تو یہ پہلی مرتب نہیں ہوا اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی کال کرے کہ ایسا کردیں تو ایسا ہوجائے گا۔پریس بریفنگ کے دوران انتخابات میں انجینئرنگ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کا یہ سب افواج پاکستان پر الزامات ہیں لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں کیونکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہم نے کہا ںجانا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور جمہوریت دشمن عناصر الیکشن سے خوش نہیں ہے لیکن انتخابات اپنی تاریخ پر ہی ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ کوئی جونیئر افسر کسی کو بلا کر کہے کہ انتخابات کا انعقاد اس طریقے سے ہوگا، اس طرح کی چھوٹی باتوں کو اس طرح پیش کرنا کہ دھاندلی ہوگئی تو ایسا بالکل نہیں ہے۔آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی تصویر کو انتخابی پوسٹر پر استعمال کرنے پر ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس معاملے پر نوٹس لیا۔چوہدری نثار اور دیگر رہنمائوں کو جیپ کا نشان الاٹ کرنے پر انہوں نے کہا کہ یہ جیپ ہماری نہیں ہے اور انتخابی نشان الاٹ کرنا افواج پاکستان کا نہیں الیکشن کمیشن کا کام ہے، میڈیا ہر چیز کو شک کی نظر سے نہ دیکھے۔ایک اور سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عوام جسے ووٹ دیتی ہے اسے اس کے مطابق گنا جائے، ہمارا کام صرف معاونت فراہم ہوگا اور ہم سے زیادہ میڈیا صاف شفاف انتخابات کو فروغ دے سکتا ہے۔سائبر حملوں کے معاملے پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ خطرہ سب کو ہوتا ہے لیکن اس کے تحفظ پر کام کیا جارہا اور اس میں بہتری کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر)صفدر کو سول عدالت سے سزا ہوئی ہے جب وقت آئے گا تو آرمی کے رولز کے تحت انکے خلاف کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کو ہم کنٹرول نہیں کرسکتے اور کسی کو ڈنڈے کے زور پر کوئی کام نہیں کراسکتے لیکن اگر کوئی ایسا کام ہو جو ملک کے خلاف ہو تو اسے نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کو خطرہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے تحفظ کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان شخصیات کو خود بھی احتیاط کرنی چاہیے۔پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ کس ملک کا پاکستان کے انتخابات میں کتنا مفاد ہے اور ان کے کیا مقاصد ہیں لیکن ہماری کوشش ہے کہ انتخابات صاف و شفاف ہوں۔کالعدم تنظیموں کی الیکشن میں شمولیت سے متعلق انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ الیکشن کمیشن فیصلہ کرے گا کہ کالعدم تنظیم کے افراد کا جائزہ لے، فوج کا انتخابی امیدوار کی اہلیت سے متعلق کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل کے بعد تک چھاپے خانے پر سیکیورٹی رہے اور اگر کوئی بے ضابطگی ہوئی تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ان کہنا تھا کہ ہماری امید ہے کہ ووٹرز گھر سے نکلے اور بلا خوف و خطر ووٹ ڈالے اور ہماری اولین ترجیح یہی ہے کہ ہم اس عمل میں کامیاب ہوں۔خلائی مخلوق کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم سیاست میں نہیں ہیں اور ہم رب کی مخلوق ہیں اور پاکستان کے عوام کے لیے اپنی جان کا نظرانہ پیش کرکے فرائض انجام دیں گے۔انہوں نے کہا کہ عوام انتخابات میں کسے بھی منتخب کریں، ہمارے لیے وہی وزیر اعظم ہوں گے اور فوج کا اس معاملے میں کوئی عمل دخل نہیں ہوگا۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔