صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
منگل 25 ستمبر 2018 
  • کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد ہو گا ، محمود خان
  • اللّٰلہ سے وعدہ ہے کہ کڑا حساب کرونگا ، وزیر اعظم
  • عمران خان شہباز شریف کو شکست دیکر وزیر اعظم بن گئے
  • سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا گیا
  • منی لانڈرنگ کیس، عدالت سے آصف زرداری کی گرفتاری کا حکم
  • رائو انوار کی ضمانت منسوخ کروانے کیلئے درخواست دائر

سانحہ یکہ توت نے پشاور شہر میں سوگ کی کیفیت پیدا کر دی، عزیز اللّٰلہ خان

پشاور | جمعرات 12 جولائی 2018 

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی کی انتخابی میٹنگ میں ہونے والے خودکش دھماکے میں مرنے والوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی ہے اور اے این پی نے اس واقعے پر تین دن تک سوگ منانے اور سیاسی سرگرمیاں معطل رکھنے کا اعلان کیا ہے۔پاکستان پیپلز پارٹی اور تحریکِ انصاف کی جانب سے بھی پشاور میں ہونے والے سیاسی جلسے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے حکام نے بدھ کی صبح بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللّٰلہ خان کو بتایا ہے کہ منگل کی شب ہونے والے اس دھماکے کے مزید سات زخمی ہلاک ہو گئے ہیں۔ہارون بلور کی میت رات گئے بلور ہاؤس منتقل کر دی گئی تھی اور ان کی نماز جنازہ بدھ کی شام وزیر باغ میں ادا کی گئی ہے جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔اس حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کی ہے اور ایک بیان میں عوام کو اے این پی کے دفاتر اور ان کے جلسوں اور کارنر میٹنگ سے دور نہ رہنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکی دی ہے۔پولیس حکام کے مطابق یہ دھماکہ منگل کو رات 11 بجے کے قریب ہوا جب یکہ توت کے علاقے میں عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ جاری تھی جس میں شرکت کے لیے ہارون بلور پہنچے تو انھیں خودکش حملہ آور نے نشانہ بنایا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جلسے کے دوران جیسے ہی ہارون بلور کو تقریر کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو دھماکہ ہو گیا۔ہارون بلور اور دیگر زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ہسپتال کے ترجمان ذوالفقار باباخیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ بدھ کی صبح تک ہلاک ہونے والوں میں ہارون بلور سمیت 20 افراد شامل ہیں جبکہ 60 سے زیادہ لوگ زخمی ہیں۔نامہ نگار کے مطابق اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد ہسپتال پہنچ گئی تھی اور احتجاج شروع کر دیا تھا۔ہسپتال کے ترجمان کے مطابق ہارون بلور کی ہلاکت کی خبر ملنے پر مشتعل ہونے والے کارکنوں نے توڑ پھوڑ بھی کی جس کے بعد حالات قابو میں لانے کے لیے انتظامیہ کو فوج کی مدد حاصل کرنا پڑی۔بدھ کو بھی پشاور شہر میں سوگ کا سماں ہے اور کاروبارِ زندگی معطل ہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین نے اس دھماکے کی جامع تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے ۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے' تحقیقات میں دشمن کی پہچان کی جانی چاہیے بجائے کہ صرف بتایا جائے کہ خودکش حملہ آور نے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ بات یہاں تک نہیں رکے گی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ نتائج کو سامنے لایا جائے۔میاں افتخار حسین نے ہارون بلور کی ہلاکت کو ظلم کی انتہا اور ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کے بعد ان کی جماعت آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے سنجیدہ ہے اور اس کے لیے فیصلہ کرنا ہو گا۔خیال رہے کہ یہ انتخابی مہم کے آغاز کے بعد خیبر پختونخوا میں کسی امیدوار کو نشانہ بنائے جانے کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل سات جولائی کو بنوں میں متحدہ مجلس عمل کے امیدوار کے قافلے پر بھی بم حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔پشاور میں بلور خاندان اہم سیاسی خاندان سمجھا جاتا ہے۔ ہارون بلور عوامی نیشنل پارٹی کے سینیئر رہنما بشیر بلور کے بیٹے ہیں جو دسمبر 2012 میں پشاور میں ہی پارٹی کے ایک جلسے پر ہونے والے خودکش حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ہارون بلور پشاور سے صوبائی اسمبلی کی نشست پی کے 78 سے انتخابات میں حصہ لے رتھے۔ گذشتہ انتخابات میں انھوں نے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے تین سے انتخابات میں حصہ لیا تھا لیکن ناکام رہے تھے جس پر عوامی نیشنل پارٹی کے رہنماوں کا کہنا تھا کہ لوگوں نے ان کی قربانیوں کی ذرا بھی قدر نہیں کی ہے۔ 2013 کے انتخابات سے قبل بھی ہارون بلور ایک دھماکے میں بال بال بچے تھے۔ اپریل 2013 میں پشاور کے علاقے یکہ توت میں ہی منعقدہ اے این پی کے ایک جلسے میں ہونے والے دھماکے میں 17 افراد کی ہلاکت ہوئی تھی۔ یہ دھماکا ایک عمارت کے باہر ہوا تھا جس کی پہلی منزل پر غلام احمد بلور اور ہارون بلور ایک اجلاس میں شریک تھے تاہم وہ اس میں محفوظ رہے تھے۔ہارون بلور سوشل میڈیا پر زیادہ سرگرم نہیں تھے تاہم 23 مئی کو انھوں نے ایک ٹویٹ میں فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کے نام ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ وہ 'ملک کے لیے بشیر بلور کی شہادت کو تسلیم کرنے پر آرمی چیف اور آئی ایس پی آر کے شکر گزار ہیں۔' یہی ان کی آخری ٹویٹ بھی تھی۔سیاسی ردعمل -: پاکستان کے نگران وزیراعظم سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے ہارون   بلور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کیا ۔تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ہارون بلور کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اپنے پیغام میں کہا کہ 'عوامی نیشنل پارٹی کی کارنر میٹنگ پر دہشت گرد حملے کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے اور ہارون بلور اور ان کے ساتھیوں کی شہادتوں پر دل انتہائی مغموم ہے۔انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ انتخابی مہم کے دوران تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے امیدواروں کے لیے سکیورٹی یقینی بنائی جائے۔پاکستان تحریکِ انصاف نے ہارون بلور اور عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی ہلاکت کے بعد 14 جولائی کو پشاور اور مردان میں طے شدہ جلسے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔تحریکِ انصاف کے مطابق یہ فیصلہ ہلاک شدگان کے سوئم کے احترام میں کیا گیا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 'شہید بشیر بلور کے بیٹے کی شہادت پر سب وطن پرست غمگین ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ 'جمہوریت پسندوں پر دہشتگرد حملے بہت بڑی سازش ہے اور دہشتگرد کسے کو انتخابات سے باہر کرنا چاہتے ہیں یہ ظاہر ہو رہا ہے۔بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ بلور خاندان اور اے این پی سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ایک دن کے لیے اپنی سیاسی سرگرمیاں معطل کر رہے ہیں جبکہ جمعرات کو پشاور میں ہونے والا جلسہ بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔اپنے پیغام میں بلاول بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے پاس اپنے غم و غصے کے اظہار کے لیے الفاظ نہیں اور 'سانحات کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ انتہاپسندی کے مقابلے میں ناگزیر قومی اتفاق رائے کی جانب دعوت دے رہا ہے۔پاکستان فوج کے ترجمان کے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ہارون بلور اور دیگر ہلاکتوں پر بلور خاندان اور اے این پی کے ساتھ اظہار افسوس کیا ہے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔