صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
منگل 25 ستمبر 2018 
  • کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد ہو گا ، محمود خان
  • اللّٰلہ سے وعدہ ہے کہ کڑا حساب کرونگا ، وزیر اعظم
  • عمران خان شہباز شریف کو شکست دیکر وزیر اعظم بن گئے
  • سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا گیا
  • منی لانڈرنگ کیس، عدالت سے آصف زرداری کی گرفتاری کا حکم
  • رائو انوار کی ضمانت منسوخ کروانے کیلئے درخواست دائر

تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پرحملوں کا خدشہ ہے، رحمان ملک

آن لائن | جمعرات 12 جولائی 2018 

اسلام آباد(آن لائن)پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنما و چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ سینیٹر رحمان ملک نے کہا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر حملوں کا خدشہ ہے،فول پروف سیکورٹی فراہم کی جائے،جاری کردہ سیکورٹی تھریٹ الرٹس کے مطابق انتخابی مہم اور ریلیوں پر حملے ہوسکتے ہیں ،کسی بھی ناخوشگوار واقعے رونما ہوا تو متعلقہ صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ ذمہ دار ہوگا،یہ ہدایت انہوںنے قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کی جانب سے وزارت داخلہ کو لکھے گئے خط میں کی۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ کہ 9 جولائی کو نیکٹا اور اس سے پہلے الیکشن کمیشن پاکستان نے کمیٹی کے سامنے ممکنہ دہشتگردی کی خدشات کا اظہار کیا تھا،نیکٹا نے کمیٹی کو کچھ اہم سیاسی شخصیات کیلئے تھریٹ الرٹس جاری کرنے کے متعلق بریفنگ دی تھی،نیکٹا نے ملک بھر سے چھ سیاسی شخصیات کے نام بھی کئے جن کے کمپین و ریلیوں پر حملہ ہوسکتا ہے،ان تفصیلات کے پیش نظر وزارت داخلہ کو سارے پارٹیوں کی قائدین کی سیکورٹی کے احکامات جاری کئے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی قائدین اور ان شخصیات جنکے لئے سیکورٹی تھریٹ الرٹ جاری ہوئے ہیں کی سیکورٹی فل پروپ کی جائے،وزارت داخلہ کو دوبارہ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کے دوران سیکورٹی سخت ترین کی جائے،پارٹی قائدین، امیدوران، ووٹرز اور الیکشن عملے کی خفاظت کیلئے غیر معمولی سیکورٹی انتظامات کی جائے،وزارت داخلہ فوری طور پر سیکورٹی کیلئے ایس او پی تیار کرکے صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کریں،وزارت داخلہ کے زیرنگرانی ایس او پی کو باہمی کورڈینیشن کے ذریعے نافذ العمل کرے۔ رحمان ملک نے کہا کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے رونما ہوا تو متعلقہ صوبائی حکومت و ضلعی انتظامیہ ذمہ دار ہوگا،قائمہ کمیٹی نے الیکشن کے دوران سیکورٹی پر اہم اجلاس 19 جولائی کو اسلام آباد میں طلب کیا ہے،آنے قوالی کمیٹی کے اجلاس میں سیکورٹی انتطامات کا باغور جائزہ لیا جائیگا،اے این پی رہنماء ہارون بلور کی شہادت پر خیبرپختونخوا حکومت سے رپورٹ طلب کر لیا گیا ہے،تھڑیٹ الرٹس کے باوجود سیکورٹی کے بھرپور انتظامات کیوں نہیں کئے گئے تھے،کیا سپریم کورٹ کے حکم پر تیار شدہ اسسٹمنٹ رپورٹ میں ہارون بلور شہید کو خطرہ بیان کیا گیا تھا؟۔ سینیٹر رحمان ملک نے مزید کہا کہ اے این پی کارنر میٹنگ کیلئے انتظامیہ نے سیکورٹی کے لئے کیا اقدامات اٹھائے تھے،ہارون بلور کی شہادت قابل افسوس اور درد ناک ہے جسنے بشیر بلور شہید کی یاد دلا دی،حکومت شہید ہارون بلور کیلئے انکے بہادری پر ستارہ شجاعت کا اعلان کرے،بلور خاندان کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائیگا۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔