صفحۂ اول    ہمارے بارے میں    ہمارا رابطہ
جمعرات 18 اکتوبر 2018 
  • کرپشن کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد ہو گا ، محمود خان
  • اللّٰلہ سے وعدہ ہے کہ کڑا حساب کرونگا ، وزیر اعظم
  • عمران خان شہباز شریف کو شکست دیکر وزیر اعظم بن گئے
  • سردار عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب نامزد کر دیا گیا
  • منی لانڈرنگ کیس، عدالت سے آصف زرداری کی گرفتاری کا حکم
  • رائو انوار کی ضمانت منسوخ کروانے کیلئے درخواست دائر

چیف جسٹس نے جسٹس صدیقی کی تقریر کا نوٹس لے لیا

مانیٹرنگ رپورٹ | پیر 23 جولائی 2018 

اسلام آباد (مانیٹرنگ رپورٹ) پاکستان کی سپریم کورٹ کے مطابق چیف جسٹس نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی تقریر میں ریاستی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے پیمرا سے تقریر کا ریکارڈ طلب کر لیا ہے۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے گذشتہ روز اپنی تقریر میں دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایس آئی عدالتی معاملات کو مینوپلیٹ کرنے میں پوری طرح ملوث ہے اور آئی ایس آئی کی مرضی کے فیصلے دینے پر انھیں وقت سے پہلے چیف جسٹس بنوانے اور ان کے خلاف دائر ریفرنس ختم کروانے کی پیشکش کی گئی تھی۔پاکستانی افواج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ گذشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے عدلیہ اور فوجی اداروں پر لگائے جانے والے الزامات کی جانچ کے لیے مناسب کارروائی کریں۔آئی ایس پی آر کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے کی گئی ٹویٹ سے کچھ دیر قبل سپریم کورٹ کے ترجمان کے جانب سے بھی پیغام جاری کیا گیا تھا جس میں کہا گیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے کی گئی تنقید کا سخت نوٹس لیا ہے۔بیان کے مطابق جسٹس ثاقب نثار نے عدالتی معاملات میں ملکی خفیہ ایجنسیوں کی مداخلت کے تاثر کو مسترد کر دیا اور جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے دیے گئے بیان کی مکمل ریکارڈنگ بھی پیمرا سے طلب کی ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق 'اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک معززجج نے سرکاری اداروں، بشمول عدلیہ اور ملک کی سب سے اہم خفیہ ایجنسی کے خلاف سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ ان سرکاری اداروں کی توقیر اور معتبریت کو برقرار رکھنے کے لیے سپریم کورٹ آف پاکستان سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان الزامات کی صداقت جانچنے کے لیے مناسب کاروائی شروع کریں اور اس کے حوالے سیایکشن لیں۔'واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے سینیئر جج جسٹس شوکت صدیقی کی جانب سے سنیچر کو راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے کیا گیا خطاب کسی ٹی وی چینل پر نشر نہیں ہوا تھا لیکن اس کی مختلف ویڈیوز سوشل میڈیا پر گردش کر رہی تھیں۔جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے فوج کے خفیہ ادارے کے اہلکاروں سے دو ٹوک الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ اپنے ضمیر کو گروی رکھنے پر موت کو ترجیح دیں گے۔اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کے انکار کے بعد آئی ایس آئی کے اہلکاروں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس انور کاسی سے رابطہ کر کے اُنھیں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر ہونے والی اپیل کی سماعت کرنے والے بینچ میں جسٹس شوکت صدیقی کو شامل نہ کرنے کے لیے کہا اور یہ بات اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے تسلیم کر لی تھی۔جسٹس صدیقی کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے آئی ایس آئی کے نمائندوں سے کہا کہ 'جس بینچ سے آپ ایزی ہیں ہم وہ بینچ بنا دیتے ہیں۔' ان کے اس بیان پر ہال میں موجود وکلا نے شیم شیم کے نعرے بھی لگائے۔اُنھوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ 'آئی ایس آئی عدالتی معاملات کو مینوپلیٹ کرنے میں پوری طرح ملوث ہے'۔ اس پر وکلا نے شیم، شیم کے نعرے لگائے۔ آئی ایس آئی کے لوگ مختف جگہ پہنچ کر اپنی مرضی کے بنیچ بنواتے ہیں اور کیسوں کی مارکنگ کی جاتی ہے۔

ہمارے بارے میں جاننے کے لئے نیچے دئیے گئے لنکس پر کلک کیجئے۔

ہمارے بارے میں   |   ضابطہ اخلاق   |   اشتہارات   |   ہم سے رابطہ کیجئے
© 2018 All Rights of Publications are Reserved by Daily Subh.
Developed by: SuperWebz.com
تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2018 روزنامہ صبح۔